ڈاکٹرلاریجانی نے آج پارلیمنٹ کے عام اجلاس میں کہا کہ اس واقعہ کے چند گھنٹے بعدہی امریکہ میں سی آئی اے کی سرپرستی میں زندگی گذارنے والے ماضی کی شاہی حکومت کے حامی پست گروہ نے ایک بیان میں اس دہشتگردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی اور سی آئی اے اور صہیونی حکومت نے سمجھا کہ وہ اس طرح خود کواس واقعہ سے بری قراردے سکتے ہيں ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ چند روز پہلے یہ خبرملی تھی کہ صہیونی حکومت کی جاسوس تنظیم موساد اور سی آئی اے تہران میں دہشتگردانہ کاروائي کرنے کی کوشش کررہی ہے۔پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے اس دہشت گرد گروہ کو اپنی دہشتگردانہ کاروائيوں کےلئے استعمال کرنا بارک اوبامہ کے لئے نئی رسوائي ہے ۔واضح رہے کہ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر مسعود علی محمدی کو انقلاب مخالف سامراجی عناصر نے تہران میں ان کے گھر کے سامنے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے ذریعے اس وقت شہید کردیا جب وہ اپنے گھر سے نکل کر یونیورسٹی جارہے تھے۔
18 مارچ 2010 - 20:30
News ID: 175888
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے صہیونی حکومت اورامریکہ کی جاسوسی ایجنسیوں کو تہران یونیورسٹی کے پروفیسر اور ایٹمی سائنسداں کی شہادت کاذمہ دارقراردیاہے۔